14 اگست سنگ میل ہے یا نشانِ منزل ؟-نصراللہ بلوچ

تہزیب اور ارتقاء کے صدیوں پہ محیط سفر میں عوام نے مختلف اقوام اور گروہوں سے اقتدار کی شراکت داری بھی برتی اور علیحدگی پسند تحریکوں کے نتیجے میں اپنے مفادات کا تحفظ بھی کیا۔
برصغیر پہ آٹھ سو سال تک مسند اقتدار پر براجمان رہنے والوں کو دو قومی نظریہ کی ضرورت تو درکنار ، کسی کو احساس تک نہ ہوا کہ متحدہ ہندوستان میں تو دو قومیں آباد ہیں لہذا مسلمانانِ ہند کو علیحدہ مملکت کی تشکیل کے بارے میں سوچنے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوئی۔
یہ تو برا ہو فرنگی کا ، جو ایسٹ انڈیا کمپنی کے نام سے تجارت کرنے آیا اور مسلم حکمرانوں سے اقتدار چھین کر پہلے پہل اِن ڈائریکٹلی اور پھر مسند اقتدار پر مرحلہ وار ڈائریکٹ قابض ہو گیا۔
سورج کی پیشانی پہ لکھا ہے کہ آمریت شخصی ہو یا گروہی اسکا انجام پسپائی ہی ہوتا ہے۔
1857 کی جنبشِ مِلّی ہو یا 1919 کا سانحہ جلیانوالہ باغ، 1931 کی بھگت سنگھ موومنٹ ہو یا 1940 کی قرار داد لاہور۔ یہ سارے واقعات ایک ہی لڑی میں پرونے سے ہی 14 اگست 1947 کی یوم آزادی کی سمجھ آ سکتی ہے۔
قابض فرنگی سامراج کے خلاف برِصغیر کے لوگوں کی غیر منظم عسکری چہل پہل سے لیکر منظم ترین سیاسی جد و جہد تک، ایک ایک باب میں تحریک آزادی کے لوازمات، لائحہ عمل اور روشن اسباق موجود ہیں۔
14 اگست 1947 برصغیر کے مسلمان اکثریتی علاقوں کی آزادی کا نقطہ آغاز ہے نہ کہ نشان منزل ہے۔ا
یسا نہیں کہ یوم آزادی کے بعد تمام تر انسانی اقدار نافذ ہو جائیں گی، بلکہ اپنی آزادی کی بقا ، استحکام اور ارتقاء کیلئے قوموں کو روزانہ کی بنیاد پر وقف ہونا پڑتا ہے۔
جغرافیائی اعتبار سے آزادی کے بعد قوموں کو معاشی انصاف کیساتھ براہ راست انسانی مساوات تک کا کٹھن سفر بھی طے کرنا پڑتا ہے۔
ایسا نہیں ہے کہ گزشتہ تہتر برسوں میں ہم نے اس جانب سفر نہیں کیا ، ایسا نہیں کہا جا سکتا کہ ہمارا قومی سفر باقی اقوامِ عالم سے کسی صورت سست رفتاری کا شکار ہے۔ بلکہ پاکستانی عوام نے مشکل ترین حالات میں بھی متفقہ آئین سازی سے لیکر قرارداد پاکستان میں طے شدہ صوبائی خودمختاری کے حصول تک کے اہم سنگِ میل عبور کر لیے ہیں۔
متفقہ آئین کا مسودہ پاکستان کے استحکام اور ترقی کے ساتھ ساتھ آزادی، خودمختاری اور بقا کی ضمانت ہے۔
بعض دوستوں کا یہ شکوہ بجا ہے کہ آئین و قوانین کی موجودگی کے باوجود اس پہ عملداری کیوں ممکن نہیں، لیکن ایسی صورت میں قوانین کی عملداری پہ مزید زور دینے کی ضرورت ہوتی ہے نہ کہ قوانین کو ہی سرے سے ختم یا معطل کر دینے جیسی بچگانہ باتوں کو فروغ دیا جاتا ہے۔
کسی معاہدہ و میثاق کا سو فیصد نفاذ نہ ہونا اس امر کی دلیل ہوتا ہے کہ یا تو عملداری کے حساب سے ہماری طرف سے ہی کمی کوتاہی ہے یا پھر اس قانون کو مزید واضح کرنے کی ضرورت ہے۔ تیسری صورت تو انارکی اور انحراف پسندوں کی ڈیمانڈ ہوا کرتی ہے۔
اسی طرح صوبائی خودمختاری بھی مضبوط وفاق کی تشکیل میں آزادی کے سفر کا اہم سنگ میل ہے۔
اس سارے کٹھن سفر میں پاکستانی عوام کے حوصلے بلند ہیں، عزم جواں ہے اور سب سے بڑھ کر اعصاب قوی ہیں۔
آنیوالے عشرے کے دوران ہمیں یہاں شخصی آزادی کے سوالات بلند ہونے اور جدید سائنسی اصولوں پر مروجہ انسانی اقدار کے تحفظ کو یقینی بنائے جانے کی جانب سفر کرنا ہے۔
کوئی خوش گماں ہے کہ آزادی مکمل ہے تو ہمیں اس سے کوئی گلہ نہیں کہ دنیا بھر میں لوگ سانس لینے کی آزادی کو بھی آزادی سمجھتے رہتے ہیں،
کوئی بدگماں ہے کہ حاصل شدہ حقوق سے زیادہ حقوق ملنے کی امید ہی ترک کردے تو ناامید ہوتا پھرے، کہ جنکی نظر کمزور ہو وہ اندھیرے میں سفر کرنے سے کتراتے ہی ہیں۔
ہمیں تو 90 سالہ منظم سیاسی عمل کے نتیجے میں 14 اگست 1947 کے دن اپنی پاک سرزمین سے فرنگی تخت الٹنے کا منظر مایوس نہیں ہونے دیتا کہ ہر جبر اور ناانصافی کو بھی اسی طرح ایک نہ ایک دن ختم ہونا ہے۔
قطعہِ زمین کے آزادی و تحفظ سے لیکر فرد کی آزادی و تحفظ تک ہمارا یہ انسانی سفر روز ازل سے جاری و ساری ہے۔
جسے جاری رکھنے والے قادرِ مطلق، عادلِ مطلق اور حلیم و حکیم کا وعدہ ہے کہ “انسان کیلئے کچھ نہیں ہے مگر جس کیلئے اس نے کوشش کی ہو۔”
اور فرد کے بعد قوم کو بھی بہت عمدہ انداز سے منظم ہونے کی تلقین کی گئی ہے کہ خدا اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جو آپ اپنی حالت بدلنے پہ گامزن نہیں ہوتی۔
رب العالمین سے دعا ہے کہ ہمیں 14 اگست 1947 جیسا عزم و استقلال عطا فرمائے اور مایوسیوں سے پیدا شدہ فکری بانجھ پن سے نجات عطا فرمائے آمین

About admin

Check Also

جوانوں کو سوزِ جگر بخش دے- جعفر لغاری

کیسے کیسے خاک چھانتے لوگ، افق پر ستارے ہو گئے۔ وہی ترجیحات کا سوال۔ ابنِ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *