کیا پولٹیکل سپیس ہے ؟ نصراللہ بلوچ

کیا تونسہ سے منتخب سابق ممبر قومی اسمبلی امجد فاروق کھوسہ تونسہ میں پولیٹیکل سپیس دیکھ رہے ہیں ؟
ایم این اے امجد فاروق کھوسہ گزشتہ جنرل الیکشن میں تونسہ کے قریبی حلقہ سے آزاد حیثیت میں الیکشن جیت کر حکومتی پارٹی کا حصہ ہیں۔
خبر ہے کہ تونسہ شریف سے سابق ممبر قومی اسمبلی سردار امجد فاروق خان کھوسہ کے فرزند عبدالقادر کھوسہ نے تونسہ سے الیکشن میں حصہ لینے کا اشارہ دیا ہے۔
اگر یہ سچ ہے تو حلقے کی سیاست میں بہت بڑی تبدیلی اور اپ سیٹ کا امکان ہے کیونکہ گزشتہ تیس سال سے ہمارے حلقہ کی پارلیمانی سیاست کے نہایت معتبر شخصیات میں سے ایک امجد فاروق خان کھوسہ ہیں جن کے فرزند کی اس انٹری سے حلقہ میں آنیوالے جنرل الیکشن کی تیاری ، سیاسی گروپنگ اور جوڑ توڑ کا نیا دور شروع ہوگا۔
موجودہ ایم این اے انجینئر خواجہ شیراز محمود صاحب کے بارے میں پبلک کا تاثر یہی ہے کہ وہ یاروں کے یار ہیں اور اپنے مخصوص دوستوں کے سہارے الیکشن لڑنے کی سٹریٹجی اپنایا کرتے ہیں ، حلقہ کے کئی یونین چئیرمنوں سے خواجہ صاحب کے دوستانہ مراسم اور رسم دنیا نبھاتے ہوئے ان دوستوں کے خانوادے کو اعلیٰ عہدوں پر براجمان کرنے کی سیاسی حکمت عملی بھی واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔
اجتماعی کام خواجہ صاحب نے بھی کیے ہیں لیکن عمومی تاثر یہی ہے کہ وہ علاقے کے پگڑپوش پہ ہاتھ رکھتے ہیں اور ووٹ ڈلوانے کی ذمہ داری اسی کے توانا کندھوں پر ڈال دیتے ہیں۔
اسی طرح تونسہ سے سابق ایم این اے امجد فاروق خان کھوسہ پبلک میں اپنا یہ امیج بنانے میں کامیاب رہے ہیں کہ وہ اجتماعی منصوبوں پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔
تونسہ شریف میں مکمل شدہ منصوبوں میں جدید ٹراما سنٹر اور سست روی کا شکار “شاہ سلیمان سپورٹس کمپلیکس” اور “چڑیا گھر” انکے اجتماعی فلاح و بہبود کے منصوبے باور کرائے جاتے ہیں۔
اس عمومی تاثر کے ساتھ ساتھ انکی سیاسی حکمت عملی میں یونین چئیرمینوں کی طرف سے انتخابی سپورٹ کا حصول ممکن بنانا بھی ہوتا ہے لیکن میڈیا اور عوام کے سامنے انکا جو تاثر زیادہ ابھرتا ہے وہ اجتماعی ترقیاتی منصوبوں کی چھاپ کا ہے۔
اس سارے عمل میں تونسہ کی موجودہ سیاسی قیادت میں وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان خاں بزدار کے سیاسی مستقبل کا تجزیہ کرنا بھی ضروری ہے ، وزیر اعلیٰ پنجاب بننے کے بعد انکے پہلے دورہ تونسہ کی سیاسی ہلچل کا جائزہ لیا جائے تو واضح نظر آتا ہے کہ اسی دن سے انکے سیاسی حلیفوں نے ان سے نا امیدی کا اظہار کرنے کے بعد ان سے آنکھیں پھیرنا شروع کر دی تھیں ، تبدیلی کا نعرہ لگاتے ہوئے ایک ساتھ الیکشن لڑنے والے اتنی جلدی ایک دوسرے سے جدا کیوں ہو گئے اسکی وجہ جاننا کوئی مشکل نہیں ہے کہ دوست فیل ہو تو دکھ ہوتا ہے، دوست فرسٹ آئے تو زیادہ دکھ ہوتا ہے۔
تونسہ شریف کی سیاست کو قریب سے دیکھنے والے لوگ پبلک میں یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ اس وقت وزیر اعلیٰ پنجاب کے ساتھ جتنے بھی سابقہ یوسی چئیرمن اقتدار اور طاقت کے مزے لے رہے ہیں یہ وزارت اعلیٰ کی مدت ختم ہونے کے بعد یہی لوگ نئے الیکشن کی نئی سیاسی بساط کے مطابق از سر نو سیاسی فیصلے کریں گے۔
اس لیے آئندہ جنرل الیکشن جہاں انجینئر شیراز محمود اور عبدالقادر کھوسہ کے لیے سیاسی چیلنج ہوگا وہیں سابق وزیر اعلیٰ پنجاب کا ٹائٹل لگا کر حلقہ انتخاب میں اترنے والی شخصیت کیلئے بھی آسان نہ ہوگا۔
اس ساری صورتحال کو دیکھ کر یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سیاسی قائدین آئندہ جنرل الیکشن میں تونسہ شریف میں پولیٹیکل سپیس دیکھ رہے ہیں۔ اب انکے یہ اندازے اور ہمارے تجزیے کس قدر درست ہیں اسکا حتمی فیصلہ حلقہ کے عام انتخابات میں یہاں عوام نے کرنا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں