کورونا کو شکست دینے والے شخص کے ہسپتال کا کروڑوں کا بل دیکھ کر دوبارہ طبیعت خراب

اسٹاک ہوم( نیوز ٹائم اپڈیٹس) سوئیڈن کے70سالہ مائیکل فلور اسپتال میں دو ماہ تک کورونا کے خلاف زندگی اور موت کی جنگ لڑتے رہے اور فتح حاصل کی لیکن جب اسپتال نے بل دیا تو مضبوط اعصاب اور طاقتور امیون سسٹم والے شخص کے چھکے چھوٹ گئے

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق مائیکل فلور نے 70 سال کی عمر میں کورونا وائرس کو بہادری سے شکست دینے میں کامیاب رہے ان کے پھیپھڑے دن بدن کمزور ہوتے گئے اور خون میں کلاٹنگ کے باعث 6 ہفتے تک وینیٹی لیٹر پر رہے ایک موقع پر ڈاکٹرز نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اہل خانہ کو آخری ملاقات کا کہہ دیا تھا خوش قسمتی سے مائیکل کی حالت غیر متوقع طور پر سنبھلنے لگی اور وہ کورونا وائرس کے خلاف جنگ جیت گئے طبی عملے نے ان کی صحت یابی کو معجزہ قرار دیا

وہ دو ماہ تک اسپتال میں زیر علاج رہے جو سوئیڈن کے کسی اسپتال میں زیر علاج رہنے کا طویل ترین دورانیہ ہے۔کسی کرشمے کی بدولت صحت یابی پانے والے مائیکل فلور کو اس وقت دھچکا لگا جب ان کے گھر 181 صفحات پر مشتمل اسپتال کا بل پہنچا جس کے ذریعے انہیں اسپتال میں 11 لاکھ 22 ہزار اور 50  ڈالرز کا بل ادا کرنے کا کہا گیا جو کہ پاکستانی روپوں میں 18 کروڑ 72 لاکھ کی رقم بنتی ہے مضبوط اعصاب والے مائیکل فلور پر اسپتال کا بل بجلی کی طرح بن کر گرا اور ان کے دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہوگئیں جس پر انہیں پھر اسپتال لایا گیا تاہم ابتدائی طبی امداد کے بعد وہ بہتر محسوس کرنے لگے

اپنا تبصرہ بھیجیں