کورنا کو شکست دینے کے لیے مسکرانا ضروری ہے

اسلام آباد (نیوز ٹائم اپڈیٹس )کورونا وائر س نے جہاں دنیا کے ہزاروں کاروبار بند کر کے لاکھوں لوگوں کو بے روزگار کردیا ہے وہیں کورنا وائرس بیماری کی وجہ سے ’’عالمی عطائیوں‘‘ کا کاروبار ایسا چلا ہے کہ گویا اُن کی کوئی لاٹری نکل آئی ہے جب دنیا کے سارے تاجرعالم گیر لاک ڈاؤن کے باعث اپنی دُکانیں بند کرکے گھروں میں دبے بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں اِن ڈما ڈول معاشی حالات میں بھی اِن عطائیوں پر آسمان سے مال و دولت کی زبردست بارش برس رہی ہے

مسکراہٹ سے قوتِ مدافعت کو مضبوط بنائیں

دنیا کے تمام سائنس دانوں اور طبی ماہر ین کا اجماع ہے کہ کورونا وائرس سے بچنے کے لیے سب سے زیادہ موثر ہتھیار انسان کی قوتِ مدافعت ہے اور کورنا وائرس کی بیماری سے صحت یابی میں سب سے فیصلہ کُن کردار قوت ِ مدافعت کا ہی ہے

شاید اِسی لیے دانش و بنیش حلقوں کی جانب سے بار بار یہ زریں قول بتانے اور ذہن نشین کروانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ کورونا وائرس کے ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آجانے کے بعد گھبرانے کی ضرورت نہیں  بلکہ کورونا وائرس کی تشخیص ہوجانے کے بعد تو خوش رہنا اور بھی زیادہ ضرور ی ہوجاتا ہے کیوںکہ نیشنل کینسر انسٹیٹیوٹ کے مطابق مسکراہٹ ذہنی خلجان کو کم کرنے اور قوتِ مدافعت کو بڑھانے والے ہارمونز جیسے این کے سیل بی سیل اور ٹی سیل کی کارگردگی کو بہتر بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے  یوں سمجھ لیجیے کہ چند لمحوں کی مسکراہٹ سے انسان اپنی قوت مدافعت میں جتنا اضافہ کرسکتا ہے شاید اُتنا اضافہ تو ایک ہفتہ تک مسلسل ملٹی وٹامنز کی گولیاں کھانے سے بھی نہ ہو اِس لیے کورونا کے دور میں زندگی بسر کرنے کا سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ اپنے چہرے سے مسکراہٹ کو زیادہ دیر تک غائب نہ ہونے دیا جائے

مسکراہٹ بلڈ شوگر لیول کو متوازن بناتی ہے

کورنا وائرس کے متعلق طبی ماہرین کی رائے ہے کہ یہ مرض ذیابیطس یا عرف عام شوگر کے مریضوں کو بہت زیادہ اور خطرناک حد تک متاثر کرسکتا ہے کیوںکہ ذیابیطس کے مریضوں کا مدافعتی نظام صحت مند انسانوں کے مقابلے میں بہت کمزور ہوتا ہے  یہ بات ذیابیطس ٹائپ ون اور ٹائپ ٹو دونوں طرح کی بیماریوں کے مریضوں پر صادق آتی ہے ٹائپ ون ذیابیطس میں اینٹی باڈیز جسم میں انسولین تیار کرنے والے خلیات کو نقصان پہنچاتی ہیں اس بیماری میں انسولین کی ناکافی مقدار کی وجہ سے مریض کے جسم میں شوگر لیول مستقل طور پر زیادہ رہتا ہے یہ عمل انسانی جسم کی مدافعتی قوت کو مستقل بنیادوں پر کم کر دیتا ہے ایسے حالات میں شوگر کے کسی مریض پر اگر کورونا وائرس کا حملہ ہوجائے تو نتیجہ بہت خطرناک بھی ہو سکتا ہے

اس بات کا اطلاق ان مریضوں پر بھی ہوتا ہے جو شوگر کے مریض ہوں اور چاہے اس مرض کے خلاف باقاعدگی سے ادویات بھی استعمال کر رہے ہوں مگر اچھی با ت یہ ہے کہ مسکراہٹ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بھی ایک بہترین شفاء بخش علاج ہے اور 2012 میں کیے گئے ایک تجرباتی مطالعے میں یہ حیران کن نتیجہ طبی ماہرین کے سامنے آیا ہے کہ ذیابیطس کے وہ مریض جو خوش مزاج تھے اور مسکرانے میں کنجوسی سے کام نہیں لیتے تھے ایسے مریضوں میں بلڈ شوگر لیول اُن مریضوں کی بہ نسبت مسلسل متوازن اور بہتر رہتا تھا جو ہنسی مذاق سے اجتناب کرتے تھے

مسکراہٹ خون کا بہاؤ بہتر بناتی ہے

ایک رپورٹ کے مطابق اٹلی، اسپین اور جرمنی میں بلند فشار خون کے مریضوں کو کورونا وائرس کی وجہ سے سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اِن ممالک میں کورنا وائرس بیماری سے ہلاک ہونے والے بیشتر افراد ہائی بلڈ پریشر کے مرض میں مبتلا پائے گئے تھے جس کے بعد سائنس داں اِس نتیجے پر پہنچے کہ کورونا وائرس کے مریضوں کے لیے ہائی بلڈ پریشر کا نتیجہ بھی کئی طرح کے اضافی خطرات کا سبب بن سکتا ہے کیوںکہ ہائی بلڈ پریشر کی وجہ سے انسانی جسم کو تازہ خون فراہم کرنے والی شریانوں کو مستقل بنیادوں پر نقصان پہنچتا ہے

ایسی صورت میں کورونا وائرس کا حملہ مریض کی زندگی کے لیے ایک بڑا امتحان بن جاتا ہے اور مریض کو علم اس وقت ہوتا ہے جب اُسے ہارٹ اٹیک ہوجاتا ہے یا کوئی دماغی شریان خون کے دباؤ کی وجہ سے پھٹ جاتی ہے مگر یہ خطرات بلڈپریشر کے اُن مریضوں کو بہت کم لاحق ہوتے ہیں جن کے چہرے اکثر و بیشتر مسکراہٹ سے سجے رہتے ہیں  ایسا کہنا ہے یونیورسٹی آف میری لینڈ سینٹر کے طبی ماہرین کا جن کے مطابق روزانہ چار پانچ بار کھل کر ہنسنے سے بلند فشار خون کے مریضوں میں خون کا بہاؤ ناقابلِ یقین حد تک بہتر ہوجاتا ہے

مسکرائیں کیوںکہ یہ دل کا معاملہ ہے

چین، اٹلی اور امریکا سے جو تازہ ترین اعدادوشمار سامنے آئے ہیں  اُن کو دیکھ کر امراض قلب کے ماہرین کو یقین ہوچلا ہے کہ کورنا وائرس بیماری دل کے پٹھوں کو بھی متاثر کرتی ہے ابتدائی تحقیق میں کورونا وائرس کے ہر 5 میں سے ایک مریض میں دل کو ہونے والے نقصان کو دریافت کیا گیا جو بعدازاں ہارٹ فیلیئر یا موت کی جانب لے جاتا ہے حیران کن طور پر ان میں سے بیشتر مریضوں میں تنفس کے مسائل ظاہر نہیں ہوئے

اِس تحقیق سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ کورونا وائرس پھیپھڑوں کے مخصوص ریسیپٹرز سے منسلک ہوتا ہے اور یہی ریسیپٹرز دل کے پٹھوں میں بھی دریافت کیے گئے ہیں علاوہ ازیں چند روز قبل چین کے ماہرین نے اِسی مناسبت سے2 تحقیقی رپورٹس جاری کی جس میں کورنا وائرس کے مریضوں میں دل کے مسائل کے بارے میں تفصیل سے بتایا گیا ہے اِس تحقیق میں طبی محققین نے اسپتال میں زیرعلاج 416 کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں میں سے 19 فی صد میں دل کو نقصان پہنچنے کی علامات واضح طور پر محسوس کیں جس کے نتیجے میں کورونا وائرس کے باعث موت کا خطرہ بڑھ گیا جب کہ کورونا وائرس کے ایسے مریض جن کے دل کو نقصان پہنچا ان میں موت کی شرح 51 فی صد تھی

لہٰذا طبی ماہرین کا مشورہ ہے کہ دل کے مریضوں میں اگر کورونا وائرس کی تصدیق ہوجائے تو انہیں اپنے دل کا بہت زیادہ خیال رکھنا چاہیے اِس سلسلے میں ادویات، ورزش اور اچھی خوراک کے ساتھ ساتھ اگر آپ مسکراتے بھی رہیں تو کیا ہی اچھی بات ہوگی  یونیورسٹی آف میری لینڈ میڈیکل سینٹر کی تحقیق کے مطابق مسکرانے سے ہمارے جسم میں کئی طرح کے ہارمون پیدا ہوتے ہیں  آڈرینیلن سے دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر میں بہتری آتی ہے جب کہ کارٹیزول اسٹریس یا دباؤ کا کلیدی ہارمون ہے جس سے خون کے بہاؤ میں شکر کا تناسب بہتر ہوجاتا ہے

وبا کے دنوں میں مسکراہٹ کے ہدیے

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ تعالٰی عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ’’تمہارا اپنے مسلمان بھائی کے لیے مسکرا دینا بھی صدقہ ہے اب سائنس نے بھی اس حدیث کو صحیح ثابت کردیا ہے معروف بین الاقوامی ٹیک کمپنی ہیولیٹ پیکارڈ کی ایک تحقیق کے مطابق کسی دوست رشتے دار بلکہ کسی اجنبی کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھنے سے بھی ہمارے دل اور دماغ میں ایسی خوشی کی لہر پیدا ہوتی ہے جو چاکلیٹ کھانے یا پیسوں کے حصول وغیرہ سے بھی زیادہ طاقتور اور مفید ہوتی ہے خاص طور پر کسی بچے کی مسکراہٹ کو دیکھنا زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتا ہے

About admin

Check Also

روئی کے گالوں جیسی نایاب اور خیمہ ساز چمگادڑیں

ہینڈورس ( نیوز ٹائم اپڈیٹس ) چمگادڑوں کو قدرے خوفناک پراسرار اور خون آشام بھی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *