پیاز اور لہسن پر مشتمل ایک ہزار سال پرانے ٹوٹکے سے خطرناک جراثیم کا خاتمہ

لندں (نیوز ٹائم اپڈیٹس ) برطانوی سائنسدانوں نے ایک ہزار سال پرانے پیاز اور لہسن کے طبی نسخہ سے تجربہ گاہ میں خطرناک اور طاقتور جراثیم کو ختم کرنے  میں کامیابی حاصل کر لی

ریسرچ جرنل ’’سائنٹفک رپورٹ‘‘ کے ایک حالیہ شمارے میں آن لائن شائع شدہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اگر پیاز لہسن گائے کا صفرا (جگر کی زردی مائل رطوبت) اور وائن کو آپس میں ملا کر مرہم بنا لیا جائے تو وہ ایسے جرثوموں تک کو بہ آسانی ہلاک کرسکتا ہے جن کے خلاف جدید ترین اینٹی بایوٹکس (ضد حیوی ادویہ) بھی غیر مؤثر ہوتی چلی جارہی ہیں

یونیورسٹی آف واروِک، یونیورسٹی آف سینٹرل لنکاشائر اور یونیورسٹی آف نوٹنگھم کی اس مشترکہ تحقیق میں 1000 سال قدیم کتاب ’’بالڈز لیچ بُک‘‘ میں لکھے طبّی نسخوں اور ٹوٹکوں کا جائزہ لیا گیا؛ جسے قرونِ وسطی کے برطانیہ میں اوّلین طبّی درسی کتابوں میں شمار کیا جاتا ہے

اسی تحقیق کو آگے بڑھاتے ہوئے مذکورہ ماہرین نے بالڈز آئی سالو کہلانے والے ایک مرہم کو نئے سرے سے بنانے کا فیصلہ کیا کتاب کی عبارت میں ابہام اور گزشتہ برسوں کے دوران اس بارے میں کیے گئے ابتدائی تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے پیاز گندنا (پیاز کے خاندان سے تعلق رکھنے والی ایک سبزی)، لہسن، گائے کا صفرا (گائے کے جگر میں بننے والی زردی مائل رطوبت) اور وائن کے آمیزے سے 75 مختلف مرہم تیار کیے

ان میں سے پیاز والے 15 اور گندنا والے 15 مرہموں نے پیٹری ڈش میں رکھے گئے سخت جان جرثوموں کو ہلاک کرنے میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں