پنجاب اور وفاق میں بڑی تبدیلیوں کا امکان

اسلام آباد (نیوزٹائم اپڈیٹس) ذرائع کے مطابق آئندہ کچھ دنوں میں تحریک انصاف کو وفاق اور پنجاب میں اہم تبدیلیاں کرنی پڑ سکتی ہیں۔
ایک طرف وفاقی حکومت چند دن قبل پاک سعودی تعلقات میں کشیدگی سے پیدا ہونے والی معاشی صورتحال سے پریشان ہے تو دوسری طرف نیب کورٹس میں بزدار سرکار کی پیشیوں پہ پیشیاں لگنا شروع ہو گئی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ق نے بزدار سرکار کی حمایت کیلئے دو سال کی مدت طے کی تھی اور اسکے بعد پرویز الٰہی کو وزیر اعلیٰ پنجاب بنایا جانا طے ہوا تھا۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو 18 اگست کو نیب نے وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کو طلب بھی کر لیا ہے اور حیران کن طور پر 18 اگست 2018 کو ہی انہیں وزیر اعلیٰ منتخب کیا گیا تھا۔
اسکے علاوہ پاک سعودی تعلقات میں بہتری کیلئے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کا اعلیٰ سعودی حکام سے رابطہ بھی خاصی اہمیت کا حامل ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی پریس کانفرنس نے معاملات میں مزید تلخی پیدا کردی ہے جس کے اثرات کو زائل کرنے کیلئے شاہ محمود قریشی سے بھی استعفیٰ لیے جانے کا امکان نظر آ رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق سربراہ تحریک انصاف اس بارے سوچ رہے ہیں کہ بیک وقت دو اہم سیاسی نقصانات کے بعد اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے تحریک انصاف حکومت کو سخت انداز میں تنقید کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
اس حوالے سے آئندہ دنوں میں معاملات مزید واضح ہونے کا امکان ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں