پاکستان میں رواں ماہ کے اختتام تک کورنا سے 6 سے 8 ہزار اموات کا خدشہ

لاک ڈاون میں نرمی کے فیصلہ کے بعد مارکیٹس کھلنے سےعوام نے تمام احتیاطی تدابیر کو بالائے طاق رکھ دیا  اگلے دو ہفتوں کے دوران کل کیسز 2 سے ڈھائی لاکھ کی سطح تک پہنچ جائیں گے

اسلام آباد (نیوز ٹائم اپڈیٹس ) پاکستان میں رواں ماہ کے آخر تک کورنا کے باعث 6 سے 8 ہزار اموات کا خدشہ، لاک ڈاون میں نرمی اور مارکیٹس کھلتے ہی عوام نے تمام احتیاطی تدابیر کی دھجیاں اڑا دیں، 2 ہفتوں کے دوران کل کیسز 2 سے ڈھائی لاکھ کی سطح تک پہنچ سکتے ہیں تفصیلات کے مطابق ذرائع کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ حال ہی میں وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ہوئے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں خدشے کا اظہار کیا گیا ہے کہ عوام کی بد احتیاطی سے پاکستان میں رواں ماہ کے آخر تک کورنا کے باعث اموات کی تعداد 6 سے 8 ہزار کی ہوشربا سطح تک پہنچ سکتی ہے۔اجلاس کے دوران بتایا گیا ہے کہ لاک ڈاون میں نرمی ہوتے ہی اور مارکیٹس کھلنے کے بعد عوام نے تمام احتیاطی تدابیر کی دھجیاں اڑا دیں

عوام کی جانب سے کورنا خدشات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا ہے۔ اس باعث ملک میں کورنا کیسز میں اچانک بہت بڑا اضافہ ہو سکتا ہے عوام کی بد احتیاطی کے باعث رواں ماہ کے آخر تک ملک میں کورنا وائرس کیسز کی کل تعداد ڈھائی لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ اس تمام صورتحال میں پنجاب اور سندھ حکومتوں نے ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والی مارکیٹس کیخلاف کاروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے بدھ کے روزکراچی مییں ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والی 3 مارکیٹس سیل کر دی گئیں۔ جبکہ پنجاب حکومت نے کہا ہے کہ کل سے احتیاطی تدابیر پر عمل نہ کرنے کے باعث کچھ مارکیٹس بند ہوتی نظر آئیں گی۔ واضح رہے کہ نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے مطابق بدھ کے روز ملک بھر سے کورنا کے مزید 1007 کیسز سامنے آئے ہیں اور 24 اموات ہوئی ہیں جن میں سندھ سے 731 کیسز 16 اموات، خیبر پختونخوا سے 231 کیسز اور 8 اوات، اسلام آباد سے 43 اور آزاد کشمیر سے 2 کیس سامنے آئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں