پاکستانی سیاستدانوں کی سخاوت پر دنیا حیرت میں مبتلا

کورنا کے عذاب سے نمٹنے کے لیے حکومت تنہا یہ کام نہیں کرسکتی حکومت کو کرونا سے نمٹنے کیلئے سرمائے اور عطیات کی ضرورت ہے جو پاکستان کے ارب پتی اور کروڑ پتی سیاستدان ہیں انہوں نے اپنی دولت میں سی کتنی عطیات کرونا ریلیف فنڈز میں جمع کرائی یہ جان کر آپ ششدر رہ جائے گے آغاز کرتے وزیر اعظم پاکستان عمران خان سے کیونکہ وہ وزیراعظم ہیں اس لیے آغاز انہی سے کرتے ہیں ان کے کل اثاثے کتنے ہیں اور کتنی رقم انہوں جمع کروائی کرونا ریلیف فنڈ میں۔۔
عمران خان: الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ریکارڈ مطابق جولائی 2019 تک کل اثاثے 108 ملین روپے جن میں بنی گالا کی رہائش گاہ شامل نہیں اس کے علاوہ جو زمان پارک لاہور کی رہائش گاہ جو ان کو وارثت میں ملی اس کے اوپر جو بلڈنگ ہے اس کی مالیت 405 ملین روپے ہے کورنا ریلیف فنڈ میں عطیات صفر
بلاول بھٹو: الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ریکارڈ کے مطابق جون 2018 میں ان کے اثاثوں کی مالیت1.5 ارب روپے ہیں بلاول بھٹو زرداری کے پاس دبئی میں دو ویلاز ہیں جن میں ان کی شراکت ہے ملک بھر میں 20 رہائشی کمرشل اور زرعی جائداد ہے ان کے پاس کرونا ریلیف فنڈ میں عطیات صفر
آصف علی زرداری: جون 2018 میں جو آصف علی زرداری کے پاس اثاثے ہیں ان کی کل مالیت 758 ملین روپے ہیں ہزاروں ایکڑ زرعی زمین کے مالک 12 مہنگی ترین گاڑیوں کے مالک ہیں ان کے پاس ایک کروڑ مالیت کے گھوڑے ہیں کرونا ریلیف فنڈ میں عطیات صفر
شہباز شریف: نیب ذرائع کے مطابق شہباز شریف اور ان کے خاندان کے پاس جو کل اثاثے ہیں ان کی مالیت 3.5 ارب روپے ہے الیکشن کمیشن کے ریکارڈ کے مطابق شہباز شریف کے پاس لندن میں بھی دو پراپرٹیز ہیں کرونا ریلیف فنڈ میں عطیات صفر
شاہد خاقان عباسی: ان کے پاس 600 ملین روپے کے اثاثے ہیں کرونا ریلیف فنڈ میں عطیات صفر
پرویز خٹک: 165 ملین روپے کے اثاثوں کے مالک ہیں ان کا کرونا ریلیف فنڈ میں عطیات صفر
مریم نواز: جون دو ہزار اٹھارہ تک مریم نواز کے پاس جو کل اثاثے ہیں ان کی مالیت 845 ملین روپے ہے اور پاکستان میں 5 ملوں میں حصہ دار ہیں کرونا ریلیف فنڈ میں عطیات صفر
چوہدری سالک حسین: چودھری شجاعت حسین کے صاحبزادے ان کے پاس جو اثاثے ہیں ان کی مالیت 1.5 ارب روپے سے بھی زائد ہے کرونا ریلیف فنڈ میں عطیات صفر
مونس الٰہی: چودھری پرویز الٰہی کے صاحبزادے ان کے پاس جو کل اثاثے ہیں ان کی مالیت 1 ارب 40 کروڑ روپے سے زائد ہے کرونا ریلیف فنڈ میں عطیات صفر
جہانگیر ترین: پاکستان کے امیر ترین سیاستدانوں میں ان کا شمار ہوتا ہے ان کی جائداد کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 2017 میں انہوں نے تقریباً 10 کروڑ روپے ٹیکس ادا کیا کرونا ریلیف فنڈ میں عطیات صفر
ہو سکتا ہے کہ یہ تمام سیاستدان اپنے حلقہ میں اپنے لوگوں کی کچھ مدد کی ہو بظاہر حد درجہ کوشش کے باوجود یہ بات سامنے نہیں آئی کسی بھی سیاستدان نے اپنی طرف سے کرونا ریلیف فنڈ میں ڈونیشن کا اعلان کیا ہو
یہ چند سیاستدانوں کے اثاثوں کے بارے معلومات مل سکی معلومات تھوڑی بہت کمی بیشی بھی ہو سکتی ہے لیکن ایک بات واضح ہے ان سیاستدانوں اربوں روپے کی جائیدادیں ہیں اس سے مشکل وقت پاکستان پر کبھی بھی نہیں آسکتا آج بھی سیاستدان بیک فٹ پر کھڑے ہیں۔ ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں