میں اپنی شرط پے آیا تھا اس خرابے میں-جعفر لغاری

دور تک پھیلے سر سبزوشاداب کھیت، اونچے اور گھنے درخت، گل، بوٹے اور گھاس پات کے علاوہ اونٹوں کے گلوں میں بجتی گھنٹی کی آوازیں بھی گاؤں کی نشانیاں ہیں
مگر یہ تو دو شناسا بھائیوں کا ویرانہ واقع ہوا ہے۔
عید کے دوسرے روز مصنوعی ماحول سے باہر نکلنے کا ارادہ کیا تو نگاہ دو بھائیوں پر پڑی جو گاؤں کے مکین ہیں۔
پہلے پہل نیم بیداری میں ایک دوست نے سفر سے انکار کیا تو دوسرا بھی ساتھ ہو لیا۔
شہرِ تونسہ کی ایسی سڑک پر ہشاش بشاش آدمی بھی بزرگوں کو بددعائیں دینے لگا جائے. 50 کلومیٹر کی مسافت تین گھنٹوں میں طے ہوئی۔
مٹھے آلی گاؤں کو جاتے کچے راستے پر گاڑی چلنے سے باقی راہ گیر راستے کی مٹی ہو گئے. گاؤں کے داخلی راستے بےہنگم کابلی درختوں سے اٹے ہوئے تھے۔
اندرون راستے کی ناہمواری پر باقیوں کو کار سے اتارتے وقت ایک مکین سے پوچھا کہ سڑک کتنی دور ہے؟
تعجب اور غصیلی انداز میں بولا کہ سڑک پر ہی تو چل رہے ہیں آپ۔
اک شاعر یاد آتے ہیں
میں اپنی شرط پے آیا تھا اس خرابے میں
سو میرے ساتھ دوسرا خراب نہ ہو
گاؤں کے اکثر مکین چہرے پر ڈاڑھی سجاتے ہیں اور مہمان کی تکریم تو اپنی بساط سے بڑھ کر ثوبت اور ٹھنڈے مشروبات جو ہمارے ہر گاؤں کی سوغات ہوتے ہیں، سے تواضع کی گئی
محبت آمیز گفتگو سے تھکن کی چادر اتر چکی تو واپسی کا قصد کیا اور میزبان کے کان میں سرگوشی کی
کہ مبشر بزداروں، عمر درازوں، اور اعجاز کھیترانوں سے خدا نجات دے تو ویرانے آباد ہوں گے.
اور دور تک پھیلے سر سبزوشاداب کھیت، اونچے اور گھنے درخت، گل، بوٹے اور گھاس پات کے علاوہ اونٹوں کے گلوں میں بجتی گھنٹی کی آوازیں بھی جو گاؤں کی نشانیاں ہیں، ظاہر ہوں گی.
نوٹ: بجلی جانے پر آدھا گھنٹہ موبائل سگنل کا نہ ہونا، بیسویں صدی تک نام کی ڈسپنسری کا نہ ہونا بھی شاید لوگوں کے پختہ ایمان کی دلیل ہے

About admin

Check Also

جوانوں کو سوزِ جگر بخش دے- جعفر لغاری

کیسے کیسے خاک چھانتے لوگ، افق پر ستارے ہو گئے۔ وہی ترجیحات کا سوال۔ ابنِ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *