شطرنج کی بساط -صابر بلوچ

یہ چند برسوں یا عشروں کی بات نہیں بلکہ صدیوں پہ محیط کھیل ہے کہ جنوبی ایشیا بالخصوص وہ قطعہ زمین جس پہ آج پاکستان واقع ہے ، عالمی معاشی شطرنج کی بساط یہیں سے پھیلائی اور یہیں پہ سمیٹی جاتی رہی ہے۔
قدیم ہندوستان پہ افغان حملہ آوروں کے حملوں کا آغاز ہو یا ایسٹ انڈیا کمپنی کی بڑھتی ہوئی فتوحات میں بریک لگنے کا مقام ہو، سندھ دریا سے متصل قطعہ زمین ہی نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے۔
صدیوں سے یہاں عالمی معاشی شطرنج کی کئی بساطیں پھیلائی اور سمیٹی جا چکی ہیں۔
برطانیہ، روس، امریکا اور اب چین ہی کو دیکھ لیں، کون سی سپر پاور ہے جس کا سورج یہاں سے ابھر کر نصف النہار تک نہیں پہنچا اور بالآخر یہیں سے اسکے دن سمٹنا شروع نہیں ہوئے۔
ستر کی دہائی میں جس طرح یہاں نمایاں طور پر سیاسی اور جغرافیائی اعتبار سے آناً فاناً تبدیلیاں مرتب ہوئیں، سیاسیات کے طالب علم اس زمانے کی ہارڈ ویئر تبدیلی کے پس پردہ پولیٹکل سافٹویئر اپڈیٹ پہ بھی گہری نظر رکھتے ہیں۔
ستر اور اسی کے عشرے میں سویت یونین اور امریکہ کی کشمکش کے دوران پاکستان کا کردار موجود ہے۔
آج سے پانچ چھے سال پہلے پاکستان کے مغربی کنارے پہ بھی چائنا اور امریکہ کی معاشی کشمکش بڑھنا شروع ہوئی تو پاکستان پھر ایک بہترین جغرافیائی محرک بن کر اپنا تاریخی کردار ادا کر رہا ہے۔
امریکہ افغانستان سے کب کا جا چکا ہوتا اگر اسے دو تین چیزوں کی ضمانت مل جاتی۔
1۔ افغان مسلح جنگجو ایغور علیحدگی پسند تنظیموں سے تعاون بڑھانے پہ آمادہ ہونے چاہئیں۔
2۔ انڈیا کو افغان حکومت کی معاشی سپورٹ کے بہانے افغانستان میں اثر و رسوخ حاصل کرنے کے مواقع مل سکیں۔
3۔ امریکہ کے معاشی حریف چائنا کو پاکستان سے دور رکھا جائے۔
ہم سب سے پہلے ایغور مسئلہ پر تینوں ممالک کی ڈپلومیسی کا جائزہ لیتے ہیں۔
اس سارے عمل میں بظاہر تو پاکستان کا نام نہیں ہے لیکن پاکستان کے بغیر یہاں بات بنتی دکھائی بھی نہیں دیتی۔
عالمی تعلقات میں دوستی دشمنی کی اخلاقیات بھی نہایت عجیب ہوتی ہیں۔
امریکی مفادات کی گتھی پاکستان کے جغرافیے کے ساتھ ایسی جڑی ہے کہ دو طرفہ تعلقات میں الزامات اور اعتماد ہمیشہ ساتھ ساتھ رہے ہیں۔
آپ نے گزشتہ دو سال کے دوران فیس بُک پر امریکی سپانسرڈ پیجز سے ایغور ترکوں کی حالت زار سے متعلق اردو میں کافی خبریں پڑھی اور دیکھی ہوں گی۔
یہ امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی پاکستانی عوام کے جذباتی ذہنوں پر خاموش لشکر کشی تھی۔
لیکن پاکستان کے عوام تو عوام کٹر قسم کے مذہبی رحجانات کے حامل طبقے کی طرف سے بھی اس ایشو پر کوئی قابلِ ذکر احتجاج سامنے نہیں آیا۔
اتنی زیادہ مہم جوئی کے باوجود کچھ نہ بن سکا تو اگست 2020 کے پہلے ہفتے میں امریکی پینٹاگون کے ایک سابق اعلی عہدیدار ، وکرم سنگھ بول پڑے کہ
“اگر چینی انٹیلی جنس اور فوجی تعاون کے معاملے میں ، پاکستان کو مزید ‘پردے کے پیچھے’ لا رہے ہیں تو ، یہ ان کے مشترکہ مفادات کے مطابق بنائے جائیں گے ، جیسے وہ علاقائی تنازعات پر بھارت کا مقابلہ کریں۔”
اسکے ساتھ ساتھ جنوبی اور جنوب مشرقی ایشین امور کے ماہر اور امریکی انسٹی ٹیوٹ آف پیس فار ایشیاء سینٹر کے سینئر مشیر کا بیان ملاحظہ فرمائیں کہ
“کیا پاکستانی قیادت نے ایغور مسئلہ پر چین کی واقعی حمایت کی ہے ؟ حالانکہ سنکیانگ میں مسلمانوں کے جبر سے پاکستانی پریشان ہیں۔”
آئندہ دنوں میں ایغور ترکوں کے بارے میں امریکی وزارتِ اطلاعات کی طرف سے مسلسل ایسی خبریں نشر ہوتی رہیں گی یا نہیں اسکا اندازہ لگانے سے پہلے گزشتہ برس وزیراعظم پاکستان سے انٹرویو میں ایغور علیحدگی پسند تحریک کے بارے میں پوچھے گئے اچانک سوال اور وزیراعظم پاکستان کے محتاط جواب ملاحظہ فرمائیں کہ
“چینیوں کے ساتھ ، ہمارا ایک خاص رشتہ ہے۔ اور یہ چین کے کام کرنے کا طریقہ ہے۔ جیسے کوئی بھی معاملہ ہم ان سے نجی طور پر بات کرتے ہیں ، ہم عوامی بیانات نہیں دیتے ہیں ، کیوں کہ چین بھی ہمارے ساتھ ایسا ہی ہے۔”
فی الحال کیلئے اسی پہ اکتفا کرتے ہیں اس کے بعد ہم انڈیا اور افغانستان کے تعلقات کی نوعیت پہ بات کریں گے

About admin

Check Also

میں اپنی شرط پے آیا تھا اس خرابے میں-جعفر لغاری

دور تک پھیلے سر سبزوشاداب کھیت، اونچے اور گھنے درخت، گل، بوٹے اور گھاس پات …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *