جوانوں کو سوزِ جگر بخش دے- جعفر لغاری

کیسے کیسے خاک چھانتے لوگ، افق پر ستارے ہو گئے۔
وہی ترجیحات کا سوال۔ ابنِ آدم کے فرزندوں میں سے جو بھی عہدِ جوانی میں میدانِ عمل کے راہی ہوئے۔
کوئی پھول بن گیا، کوئی چاند کوئی تارا
جواں عمری میں کسی راستے پر یکسوئی سے ہی لوگ عظمت کے استعارے بنتے ہیں۔
یہی راستے ہمہ وقت قندیل ہوتے ہیں۔ مسافر جنکی روشنی میں سفر کرتے ہیں
امنگوں، جفاکشی، بلند پروازی، اور عزائم کا دوسرا نام جوانی ہے۔ تبھی اسکی حد 15 سے 30 متعین ہے۔
بیٹھے بیٹھے ان نوجوانوں کی یاد سے دل منور ہو گیا جو ظالم حکمران کے سامنے بول اٹھے کہ رب العالمین کے سوا کسی کو معبود نہ پکاریں گے اور آج خلق انہیں اصحاب کہف کے نام سے جانتی ہے۔
اسی جواں عمری میں اگر علم(جو کمزوروں کو توانا کرتی ہے) سے دماغ منور ہوں تو وہ سویر ہمارے دروبام پر طلوع ہوگی جس سے غلامی کے اندھیرے چھٹ جائیں گے۔
قیامِ پاکستان کے تحریک میں شامل ان نوجوانوں کی بھولی بسری یادوں سے بھی قلوب منور ہو جاتے ہیں کہ اقبال کے ان شاہینوں کی بلند پروازی، جرآت، اور استقامت سے ہی اسلام کے نام پر بننے والی دوسری ریاست وجود میں آئی۔
ان سب میں ہماری باہمت خواتین کا کردار بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔
ان سب سے یہ بات عیاں ہوئی کہ معاشرے کو ادبار سے نکالنے کا فریضہ جواں ہمت کندھے ہی اٹھا سکتے ہیں.
پر آج کا نوجوان بھٹک گیا، سبق اس نے بھلا دیا۔
آج اسکی معراج بہترین ملازمت کے سوا کیا ہے؟
امت کے لیے درد ، تڑپ ماند پڑ گئی۔
انکی توانائیاں حصولِ علم پر صرف نہیں ہو رہی۔
اب سب راکھ کا ڈھیر معلوم ہوتا ہے۔ خدا انجام بخیر کرے۔
اگر آج ہمارے نوجوان جدید عصری علوم میں مہارت، انداز فکر میں اپنی اسلامی روایات کا پاسدار، ہنرمندی میں کمال کو اپنا نصب العین کر لے تو وہ اپنی دوبارہ معراج کو پا سکتا ہے
ایک اور آخری بات
ہم اسی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام لیوا ہیں جس نے فرمایا تھا کہ ہند کے ساحلوں سے انہیں خوشبو آتی ہے۔ یہی روشن مستقبل کی نوید ہے۔ علامہ اقبال نے کہا تھا
جوانوں کو سوزِ جگر بخش دے
مرا عشق ، مری نظر بخش دے
تڑپنے پھڑکنے کی توفیق دے
دل مرتضیٰ ، سوز صدیق دے
انہی کی بدولت ہی
کیسے کیسے خاک چھانتے لوگ، افق پر ستارے ہو گئے۔
وہی ترجیحات کا سوال۔ ابنِ آدم کے فرزندوں میں سے جو بھی عہدِ جوانی میں میدانِ عمل کے راہی ہوئے۔
کوئی پھول بن گیا، کوئی چاند کوئی تارا
جواں عمری میں کسی راستے پر یکسوئی سے ہی لوگ عظمت کے استعارے بنتے ہیں۔
یہی راستے ہمہ وقت قندیل ہوتے ہیں۔ مسافر جنکی روشنی میں سفر کرتے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں