جوانوں کا عالمی دن -نصراللہ بلوچ

جس ملک کی آبادی کی اکثریت جوانوں پر مشتمل ہو اور وہاں ایسی کھیپ تیار کی جا رہی ہو کہ کسی بھی عالمی یوم کے حوالے سے عموماً اسی قسم کے تبصرے سننے کو ملتے ہوں کہ
بے سی کَلی (Basically) یہ دن منانا عالمی سازش کا حصہ ہے۔
سو ہم بھی آج اپنے جوانوں کے ہم زبان و ہمرکاب ہونا پسند کریں گے
اقوام متحدہ کی ویب سائٹ پہ جائیں تو ایسا لگتا ہے کہ یہ دن نوجوانوں کو ورغلانے کا پورا پلان ہے۔
اب ذرا دیکھیں تو سہی کہ عالمی یوم جوانان 12 اگست 2020 کے حوالے سے سلوگن یعنی نعرہ کیسا ترتیب دیا گیا ہے۔
“جوانوں کی مصروفیات برائے عالمی عمل”
ایسے تمام “نعرہ جات” جن میں نا تو کوئی جذباتیت ہو اور نہ ہی ہمیں انکی کچھ سمجھ آتی ہو فضول اور قابلِ گردن زنی ہیں۔
کیا مملکتِ خداداد کا جوان اتنا فضول اور بیکار ہے کہ اپنے پیارے ہینڈسم وزیراعظم کی طرف سے ڈرامہ سیریل ارطغرل دیکھنے کا مفت اور قیمتی مشورہ ملنے کے بعد بھی عالمی عمل کیلئے اپنی مصروفیات کے بارے میں سوچتا پھرے ؟
ہمارا جوان تو مناسب قسم کی نوکری اور اسکے بعد نیم خوبصورت قسم کی دلہنیا سے شادی کے حصول کو زندگی کا مقصد بلکہ آخری خواہش بنا کر جی رہا ہے۔
عملی طور پر فکری انحطاط کیا ہوتا ہے، معاشی طور پر ریاستی یلغار کیا ہوتی ہے، اس کی املا لکھنا ہی ہمارے جوان کی کامیابی تصور کی جائے۔
اب جبکہ دنیا گلوبل ویلج بن چکی ہے لہذا سائنس اور ٹیکنالوجی کا صریحاً انکار ہمیں عالمی قرضوں کے حصول میں مشکلات کا سبب بن سکتا ہے۔ لیکن ہم سائنس اور ٹیکنالوجی کا راستہ روکنے کی پوری کوشش میں لگے ہیں۔ نصاب تعلیم کی اہمیت سے کون عقلمند انکار کر سکتا ہے مگر ہم 2020 میں بھی والد کے نام خط برائے اطلاع نتائج سالانہ جماعت پنجم پڑھا رہے ہیں۔
یہ تو تھا پرائم لیول کا نصاب تعلیم اب ذرا سرکاری کالجز کا حال تو دیکھیے جہاں قدم قدم پر پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے نمائندے بیٹھے ہوئے ہیں۔
صحت مندانہ سرگرمیوں کے حوالے سے دیکھا جائے تو فقط کرکٹ کے شعبے میں ہماری حکومت کا کوئی انقلابی قدم دیکھنے کو نہیں ملتا۔
تعلیم اور صحت سے آگے بڑھ کر فکری انقلاب کی بات کریں تو وزیراعظم جوانوں کو ڈرامہ سیریل ارطغرل دیکھنے کا مشورہ دیتے نظر آتے ہیں۔
ڈرامہ کو سرمہ بنا کر پیش کرنے کا کیا مقصد ہو سکتا ہے کہ ہمارا آج کا جوان ایک ایسے ماضی میں کھو جائے جہاں نہ بیروزگاری اور جابز کا کوئی مسئلہ بیان ہو رہا ہے اور نہ ہی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرتے جوان دکھائے جا رہے ہیں۔ بس ایک ارطغرل نامی سپہ سالار ہیں اور یوں پوری جوان قوم کو شخصیت پرستی کے خطرناک فعل کا عادی کیا جا رہا ہے۔
عالمی یوم جوانان کے حوالے سے اقوام متحدہ کی ویب سائٹ کھولیں تو “جس نے خود کو پہچانا اس نے رب کو پہچانا” والی آیت سے ملتا جلتا ایک جملہ جوانان عالم کے دن کے حوالے سے لکھا ہوا سامنے آ رہا ہے
جبکہ کامیاب جوان پروگرام کی ویب سائٹ کو دیکھیں تو ایک خوبصورت ویب سائٹ پہ جگہ جگہ Launched Soon اور This page isn’t working کے سنہری حروف سے آمنا سامنا ہوتا ہے۔
افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ یہ حکومت جوانوں کو کتنے خوبصورت خواب دکھا کر اقتدار میں آئی تھی اور اب تک سوائے خوبصورت تصویروں اور سابقہ حکومتوں کو کوسنے کے علاوہ عملی طور پر ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا جس سے جوانوں کو سپورٹ کرنے کا تاثر ابھرتا ہو۔ الٹا ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے بجٹ میں نمایاں کمی ، سٹڈی سکالرشپس میں کمی کا اعلان کر دیا ہے۔
خدا تعالٰی سے دعا ہے کہ جوانوں کو اپنے مستقبل کے بارے میں سوچنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

جوانوں کا عالمی دن -نصراللہ بلوچ” ایک تبصرہ

  1. Bhut khoob Sir g,
    Jis tarah ap NY moujodah sourt e haal ki akaasi ki, wooh apni missal ap hai. Bila shubbah, ap NY nou jawanaan e Pakistan k masaail ko nh sirf munfarid blkeh amli andaaz main ujaagar kia hai.
    Isi tarah khobsurt tehrereen likhty raheen, taa keh mujh sumait kai dowry taalib ilmon ko ap jaisy azeem air ba baseerut ustad say sekhny ka mouqa mily.

اپنا تبصرہ بھیجیں