اقلیتوں کا ایک دن- نصراللہ بلوچ

ویسے تو اقلیت کا لفظ قلیل تعداد کیلئے استعمال ہوتا ہے ، لیکن یہ لفظ عام طور پر مذہبی طور پر قلیل تعداد میں پائے جانے والے گروہوں کیلئے ہی استعمال ہوتا ہے۔پاکستان سمیت دنیا بھر میں جہاں بھی مذہبی اقلیتوں کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے وہاں ابھی تک یہ مسئلہ بھی موجود ہے کہ اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے بھی ایک قلیل تعداد منظم اور سرگرداں رہتی ہے۔
اقلیتوں کے حقوق کا نعرہ لگانے والی ان تنظیموں کے خلاف اکثریتی گروہوں کا یہ مسلسل اور مخصوص پروپیگینڈا بھی معمول کے مطابق جاری رہتا ہے کہ اقلیتوں کے حقوق پہ واویلا کرتے یہ “شرپسند” دراصل بیرونی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔
ہمسایہ ملک بھارت کو ہی دیکھ لیجئے، جہاں کی سیاسی قیادت نے متحدہ ہندوستان میں دو قومی نظریے کی بنیاد پر تقسیم کی مخالفت کی تھی، آج وہاں کی مسلم اقلیت سب سے زیادہ عدم تحفظ کا شکار ہے۔
ان کے سیاسی اور جمہوری حقوق تو درکنار، بنیادی انسانی حقوق بھی محفوظ نہیں رہے۔ ایسے سارے ناروا سلوک کے خلاف بھارت کے سرکردہ دانشور تحریر و تقریر میں جب صدائے احتجاج بلند کرتے ہیں تو انہیں وطن دشمن، بیرونی ایجنٹ اور سر پھرے جیسے کیا کیا القابات سے نوازا جاتا ہے، تقریباً اکثر پاکستانی اس سے واقف ہوں گے۔
ایسے امن پسند لوگوں کو کاؤنٹر کرنے کیلئے اقلیتوں کے کسی نہ کسی انفرادی عمل کی وجہ سے بھی خوب تنقید سہنی پڑتی ہے اسکا اندازہ لگانا بھی کسی ہمارے لیے مشکل نہیں ہے۔
لیکن اس سارے معاملے کو یہیں روک کر آپ ایک لمحے کیلئے سوچیں تو سہی کہ اگر آپ بھارتی اقلیت ہوتے تو آپ کو سماجی طور پر کن کن پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا۔۔۔
اور اس سب کے باوجود وہاں کی اکثریتی آبادی آپ کے مسائل کو مسائل ماننے پہ ہی تیار نہ ہو تو آپ پہ کیا بیتے گی ؟؟؟
اب ذرا دل پہ ہاتھ رکھ کر بتائیے کہ اگر آپ پاکستانی اقلیتوں میں سے کسی بھی گروہ میں پیدا ہوتے تو کیا آپ کی پریشانیوں اور بھارتی اقلیتوں میں کوئی فرق ہوتا ؟
آپ سوچیں گے کہ ہماری اقلیتیں بھارتی اقلیتوں سے بہتر حالت میں ہیں تو ٹھنڈے دل سے پڑھیے۔
بالفرض آپ پاکستان میں بسنے والی اقلیت ہیں اور
جب ملک کا سابق چیف جسٹس تک آپ کی مذہبی شناخت کو حقارت آمیز انداز سے ڈسکس کر چکا ہو، سب سے بڑی آبادی والے صوبہ پنجاب کا حکومتی وزیر تک بھارت دشمنی میں آپ کے مذہب تک کو تنقید کا نشانہ بناتا رہا ہو، آپ سندھ میں رہتے ہوں اور آپ کو جوان بیٹیوں کی جبری گمشدگی اور بعد ازاں تبدیلی مذہب کے نام پر ناخوشگوار بازیابی کا سامنا ہو، وہاں آپ کیا سوچیں گے ؟
حکومت وقت وفاقی دارالحکومت میں ایک مندر بنانے کا فیصلہ کرے تو اس حکومت کے سیاسی مخالفین وزیراعظم اور خاتونِ اول کی تصاویر کو آپ کی مقدس مذہبی مورتیوں پہ فوٹو شاپ کرنے کا بدترین عمل کرتے ہوئے آپ کے جذبات مجروح ہونے کا بھی نہ سوچیں تو آپ کیا محسوس کریں گے ؟
مسئلہ یہ نہیں کہ کروڑوں امن پسند لوگوں میں سے فقط چند لوگ ایسے افعال کرتے ہیں، اقلیتوں کے جذبات تو مجروح ہو ہی جاتے ہیں، لیکن اس سب کے جواب میں ریاست نے کتنی قانون سازی کی ہے اور پہلے سے کی گئی قانون سازی پر کس قدر عمل ہو رہا ہے ، یہ چیز اصل پریشانی کی وجہ ہے۔
سوال یہ ہے کہ اقلیتوں کے دن پہ اقلیتوں کے مسائل پہ رونے دھونے والے بھی اقلیتوں کے حقوق کیلئے سخت سے سخت قانون سازی پہ بھی زور دینگے یا نہیں ؟؟؟
اس سب کا مظاہرہ آپ گیارہ اگست کو ہونے والی تمام سماجی اور سیاسی ایکٹیویٹیز میں تلاش ضرور کیجئے گا۔
ہندوستانی اقلیتوں کے حق میں بیان بازی سے آگے بڑھ کر آج ہمیں اپنی پاکستانی اقلیتوں کے مسائل کو سب سے پہلے مسائل تسلیم کرنا ہے، پھر کہیں جا کے انکے مسائل کو قانونی حیثیت میں حل کرنے کی ضرورت کا مرحلہ آتا ہے۔
اس ایک عمل سے سے جہاں ایک طرف ہمارے ملک میں بسنے والی اقلیتیں سچے دلی فخر سے خود کو پاکستانی کہیں گی اور پاکستان حقیقی معنوں میں مضبوط ہوگا تو دوسری طرف عالمی برادری کی جانب سے بھارتی اقلیتوں کے حقوق کی پامالیوں کے حوالے سے سفارتی دباؤ میں بھی اضافہ ہوگا۔
لیکن ہم سارا دن اسی بحث میں گزار دیں گے کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی گیارہ اگست والی تقریر کا کیا مقصد تھا اور ملک میں سیکولرزم کا فروغ ملک کیلئے بہتر ہے یا سیکولرزم سے ملک کی نظریاتی اساس ہلنے کا خدشہ ہے۔؟؟؟؟
سوال صرف یہ ہے کہ جس سیکولرزم کا مطالبہ ہم بھارتی اقلیتوں کے حقوق مانگتے وقت کرتے ہیں کیا ویسا ہی سیکولرزم ہم پاکستان میں بھی چاہتے ہیں یا نہیں ؟؟؟؟

اپنا تبصرہ بھیجیں